امام خمینیؒ کاانقلابِ اسلامی آپ کے عظیم المرتبت الٰہی انسان و رہنما ہونے پر دلیل ہے

امام خمینیؒ حقیقتاً خدا کی ایک عظیم نشانی ہیں اور آپ کا برپا کیا ہوا انقلابِ اسلامی تاریخِ عالم کا وہ عظیم الشان کارنامہ ہے جو گذشتہ ۳۷ سالوں سے اپنی روز افزوں تاثیرگذاری کے سبب دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالے ہوے ہے۔

امام خمینیؒ کی قیادت میں ۱۹۷۹ء کے ماہ فروری میں جب اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو امام کی عمر اس وقت تقریباً۷۸سال تھی۔واضح رہے کہ عیسوی کلینڈر کی رو سے آپ کی تاریخِ ولادتِ با سعادت ۲۴ ستمبر ۱۹۰۲ ہے۔ایسی عمر میں کہ جب انسان کے جسمانی قویٰ بری طرح کمزور پڑ جاتے ہیں امام خمینیؒ کا ایک ایسے انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کرناجس میں طاقت کے عدم توازن اور کامیابی کے مادی معیارات کو یکسر خاطر میں نہ لایا گیا ہوبانئ انقلاب کے ایک الٰہی رہنما ہونے کی واضح دلیل ہے۔ یہ انقلاب چونکہ مشرق وسطیٰ کے ایک اہم ترین ملک میں رونما ہوا تھا جو قدرتی وسائل کا عظیم مخزن ہے لہٰذ دنیاپر حاکم سرمایہ دارانہ نظام کے علمبرداروں کا اس انقلاب کے حوالے سے غیر معمولی اضطراب و تشویش میں مبتلاء ہو جانا ہر کسی کے لیے قابلِ فہم ہے۔ دنیا پر مسلط یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام درحقیقت مغرب کی سامراجی قوتوں کے ہاتھ میں دنیا کے کمزور اقوام کے استحصال کا وہ موثر وسیلہ ہے جسے عالمی صہیونیت کے اشتراک سے وضع کیا گیا ہے ۔عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے سامراجی و صہیونی منفعت برداروں نے امام خمینیؓ اور انکے برپا کردہ انقلابِ اسلامی کو ناکام بنادینے کے لیے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔مغرب اور اسکے اتحادیوں نے اس انقلاب کے خلاف تمام تر نفسیاتی،تشہیراتی حتیٰ کہ فوجی حربوں کے استعمال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکناسکے باوجو یہ انقلاب اپنے خبیث دشمنوں کے پیدا کردہ تمام موانع اور انکے مسلط کردہ تمام جنگوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے پوری شجاعت کے ساتھ آگے بڑھتا رہا اور آج اس انقلا ب نے ظلم کے خلاف مزاحمت و مقاومت کی اپنی الٰہی روش و پایسی کے سبب اس قدر توانائی اور حرارت حاصل کرلی ہے کہ اسکے دشمن بشمول شیطانِ بزرگ امریکہ ہر محاذ پرپسپائی اختیار کرتے ہوئے اسکے سامنے سرنگونی اختیار کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

ایک ۷۸ سالہ بوڑھے کی قیادت میں کہ جس کی جسمانی قوتیں ضعف سے دوچار ہوں اس غیر معمولی انقلاب کا کامیاب ہونااس حقیقت کی نشاندہی کرتاہے کہ بانیٰ انقلاب کی روحی و معنوی قوت و توانائی اپنے عروج اور نقطۂ کمال کو پہنچی ہوئی تھی جو مافوقِ طبیعت اور غیبی دنیا سے امامِ راحل کے مضبوط ومستحکم ارتباط کی محکم دلیل ہے۔اس کا اعتراف امام اور انقلابِ اسلامی کے سب سے بڑے ذشمن امریکہ کے اس وقت کے صدر جمی کارٹر کو بھی کرنا پڑا۔جب ابتدائے انقلاب میں امریکہ نے اپنے سفارت خانہ نما جاسوس خانے کے اسٹاف کو کہ جنہیں امام خمینیؒ کے عاشق انقلابی جوانوں نے انکو اپنے ملک کے خلاف جاسوسی سر گر میاں اانجام دینے کے جرم میں یر غمال بنا لیا تھا تو امریکہ نے اپنے اسٹاف کی بازیابی کے لئے “The Eagle Claw” نامی ایک انتہائی خفیہ فوجی آپریشن انجام دیا لیکن ہوا یہ کہ امریکہ کے جہاز جب ایران کی سرحدوں میں مخفیانہ طور پر داخل ہوئے تو ایران کے صحرائے طبس میں ریت کے طوفان کی لپیٹ میں آگئے اور پھراس طوفان نے امیریکی جہازوں اور فوجیوں پر وہ تباہی مسلط کی کہ جس کی ہیبت و دہشت کو یاد کر کے آج بھی پنٹاگون کے حکام اپنی نیند کھو بیٹھتے ہیں۔ اپنی اس ذلت آمیز ناکامی کی خبر سن کر جمی کارٹر نے کہا تھا کہ ’’لگتا ہے خدا بھی خمینی کے ساتھ ہے ‘‘۔یہ بیان گویا کارٹر کی جانب سے اعتراف تھا کہ امام کو تائیدِ غیبی حاصل ہے اس لیے کہ صحرائے طبس میں ایران کی طرف سے کوئی ایسے ظاہری عوامل موجود نہیں تھے جو امریکہ کی اس مجرمانہ فوجی کاروائی کو ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہوتے۔امریکہ کے اس جارحا نہ اقدام کی رسوا کن شکست امام اور انقلابِ اسلامی کے حق میں خالصتاً تائیدٍ الٰہی اور لطفِ خداوند ی کے محقق ہو نے کی روشن دلیل ہے۔امام خمینیؒ نے تحریکِ انقلابِ اسلامی کے تمام تر مر ا حل میں خدا پر کامل توکل اور یقین کو انقلاب کی کامیابی کا واحد ذریعہ قرار دیا اور انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی اسی اصلِ حقیقت کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کراتے رہے آپ نے لوگوں کو باور کر ایا کہ امریکہ کی مادی اور فوجی قوت الٰہی را ہ وروش کے پیر وکاروں کے نز دیک کوئی قدرو قیمت نہیں رکھتی ہے۔ چنانچہ امامؒ کی اسی تعلیم کا اثر تھا کہ ایران کیعوام امریکہ کی دھمکیوں اور منہ زوریوں کو ذرہ برابر بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے اور ہمیشہ اس کی سامراجی روش اور پالیسی کے خلاف مزاحمت پر کمر بستہ رہنے کی دلیرانہ مثال قائم کی۔

امام خمینی ؒ انقلاب کی کامیابی کے بعد تقریبا ۱۰ سال مزید زندہ ر ہے اس دوران اسلام و انقلاب دشمن سامراجی قوتوں اور ان کے اتحادیوں نے انقلابِ اسلامی کو ناکام بنانے کے لیے طرح طرح کے گھناؤنے اور غیر انسانی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ایک طرف داخلی ریشہ دوانیوں کے ذریعہ انقلاب کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو دوسری جانب صدام حسین جیسے وحشی ڈکٹیٹر کو آلۂ کار بناکر ایران کے خلاف ایک طویل بھیانک جنگ مسلط کی۔ان تمام ہوشربا اور روح فرسا سازشوں اور جارحیتوں کا مقابلہ امامؒ نے اپنی الٰہی حکمتِ عملی کے ذریعہ کامیابی کے ساتھ کیا۔ مصائب کے مقابلے میں امامؒ کے غیر متزلزل عزم و ارادے نے ایرانی عوام کی روح کو اس طرح گرمائے رکھا کہ وہ امام ؒ کی پیروی اور اتباع میں ہر جاں گسل مرحلے کو عبور کر نے کے لیے آمادہ رہے اور سنگین سے سنگین تر مصائب سے روبرو ہونے کے باوجود وہ انقلاب کے اہداف کے حصول میں کسی قسم کی کمزوری دکھا نے یا عقب نشینی اور پسپائی اختیار کر نے کے لئیے ہر گز ہر گز تیار نہیں ہوئے ۔ ایرانی عوام ولایت مداری کا حق ادا کرتے ہوئے اور اپنے الٰہی رہبر کی صادقانہ پیروی کا ثبوت دیتے ہوئے آتش و خون کے ہر دریا میں چھلانگ لگادینے پر ہر وقت آمادہ رہی ۔اما خمینی ؒ کی قیادت میں ایرانی عوام کی فدا کاریوں اور جانثاریوں کے سبب ہی انقلاب کے انتہائی مشکل مراحل میں تائیدِ ایزدی و رحمتِخداوندی اس قوم کے شاملِ حال رہی جس کی بناء پر انقلاب دشمن قوتوں کا انقلاب کو جڑ سے ختم کر دینے کا خواب بری طرح چکنا چور ہو کر رہ گیا ۔اما خمینی ؒ نے نہ صرف یہ کہ انقلاب کو درپیش خطرات سے انقلاب کی حفاظت کی بلکہ اپنے بعد انقلاب کو اس کے اصل خط یعنی اسلامِ حقیقی یا اسلامِ نابِ محمدیؐ پر باقی رکھنے اور اسکو انسانیت کی عمومی فلاح کے لئیے روز افزوں ثمربار اور ثمر آور رہنے کا انتظام بھی کر گئے ۔واضح رہے کہ ایران کا انقلابِ اسلامی جب کامیاب ہواِتو امام خمینیؒ کی حیثیت ایک “octogenarian” یعنی ۸۰ سالہ ضعیف کی تھی اور جو نحیف الجسم تھے لیکن یقیناًآپ ؒ کی روح کی غیر معمولی توانائی اور تابندگی تھی کہ جس کی بناء پر انقلاب سے نبرد آزما دشمنوں کو نا کام بنانے کی امامؒ نے کامیاب منصوبہ بندی کی ،انقلاب کی بنیادوں کو مضبوط کیا ، حکومتِ اسلامی کی تشکیل کی اور اس کے آئین اور اصولوں کو مشخص کیا اور اپنے انقلابی رفقاء کو ایسی بصیرت عطا ء کی کہ وہ آئندہ انقلاب کو اس کے حقیقی خط پر گامزن رکھنے میں اور زمانے کے نئے تقاضوں اور چیلنجیز کی صورت میں حکومتِ اسلامی کو کما حقہٗ تاثیر گذار رکھنے نیز انقلابِ اسلامی کو ایران کی سرحدوں سے ماوراء وسعت وینے میں قرآن و سنت سے صحیح استفادہ کر تے ہوئے انقلاب کے تسلسل و دوام کی ضمانت کو یقینی بنا سکیں تاکہ یہ انقلاب کامیابی کے ساتھ سفر کرتا ہواامامِ زمانہ ؑ بقیۃ اللہ کے جہانی انقلاب سے متصل ہو جائے۔ امامؒ کا اپنی پیرانہ سالی کے باوجود انقلابِ اسلامی برپا کرنا،انقلاب کی حفاظت و بقاء و تسلسل و وسعت کے لیے پاسدارانِ انقلابِ اسلامی، بسیج اور حزب اللہ جیسی فورسز کو تشکیل دینا،مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت و سرزمینِ فلسطین و بیت المقدس کی آزادی وصہیونی ریاست اسرائیل کی نابودی اور دنیا کی تمام مظلو م و مستضعف اقوام کی حمایت میں ظالم قوتوں کے خلاف قیام کو انقلاب اسلامی کی اسٹراٹیجک ترجیحات میں شامل کر نانیزارتشِ اسلامی ایران اور مذکورہ بالا اسلامی فورسزکو تعلیم و تربیت کے الٰہی برنامے کے رہنما اصول کی آگہی بخشنا کہ جن سے استفادہ کرتے ہوئے وہ اپنے جذب�ۂ شہادت کو روز افزوں ترقی دے سکیں اور ساتھ ہی اپنی فنی، حربی، علمی،سائنسی اور معنوی صلاحیتوں کو ہر آن رشد و کمال کے اعلیٰ منازل سے ہمکنار کرتے ہوئے مادی لحاظ سے اپنے سے کئی گنا بڑی ظالم و غاصب قوتوں کے جارحانہ حملوں کو بہ آسانی ناکام بنا سکیں۔ امام خمینیؒ تحریکِ کربلا سے ماخوذ ستم گروں اور ان کے مظالم کے خلاف مزاحمت کا وہ فلسفہ سامنے لے کر آئے جو مظلوم اقوام کے حق میں نسخۂ کیمیا ثابت ہوا اور آج اسی فلسفۂ مزاحمت کی بدولت شام، عراق،لبنان ، یمن اور بحرین کیمستضعف اقوام اوران علاقوں میں موجود تحریکِ مقاومت نے امریکہ، اسرائیل اوروہابی و تکفیری دہشتگردوں کو شکست و پسپائی کے زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔امام خمینیؒ کے تیار کر دہ الٰہی لشکروں نے انقلابِ اسلامی اور مقاومتِ اسلامی کے خلاف مسلط کی گئی نفسیاتی،تشہیراتی، ثقافتی اور فوجی جنگوں میں اپنے سفاک حریف ہائے مقابل اورانکے پست فطرت اتحادیوں و وحشی دہشت گرد آلۂ کاروں کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کرکے ولایتِ فقیہ، امامِ زمانہؐ، اسلامی آرزؤں سے سرشار مسلم عوام، دنیا کے محرومین و مستضعفین، انبیاء علیہم السلام، اولیائے الٰہی، رسولِ خاتمؑ ،آپؑ کے اہلِ بیتِ اطہارؐ اور خدا وندِ متعال کی خوشنودی اور مدح و ستائش کے نقطۂ ارتکاز میں اپنے آپ کو تبدیل کر لیا ہے۔
امام خمینیؒ کے یہ سارے محیر العقول کارنامے آپؒ کے غیبی دنیا اور ملا ئے اعلیٰ سے مضبوط اور گہرے ارتباط کے نتیجے میں وقوع پزیر ہوئے جو کہ امام خمینیؒ کے الٰہی رہبر ہونے کی واضح دلیل ہے۔

امام خمینی ؒ کا ایک اور قابلِ ذکر کار نامہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں جاری مختلف ناموں سے جاری تحریکوں اور تنظیموں کی حق و حقیقت سے قربت کو ناپنے کا آپؒ نے ایک واضح پیمانہ عطا کیااور وہ یہ ہے کہ جو اسلامی تحریکیں اور تنظیمیں صیہیونی ریاست اور ان کی پشت پناہ مغربی سامراجی قوتوں سے جس شدت کے ساتھ بر سرِ جنگ ہیں وہ اتنی ہی زیادہ راہِ خدا میں اخلاص و للٰہیت کی حامل ہیں ساتھ ہی عالمی سامراج اور صہیو نی ریاست اور خطے میں ان دونوں کی اتحادی عرب رجعت پسند شاہی حکومتوں سے یہ تحریکیں اور تنظیمیں جس قدر نا لاں ہے وہ اتنا ہی زیاد ہ اسلامِِ حقیقی سے وفا دار ہیں۔
امام خمینیؒ کا ایک عظیم کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ کی اسلامی فکر نے امتِ مسلمہ میں convergenceیعنی تقرب اور ہمگرائی کازمینہ فراہم کیااس طر ح کہ انہوں نے عملاً یہ ثابت کر دکھایا کہ اسلام کو معا شرے میں حا کمیت دلانے میں اور اسلام کے عالمی و علا قائی دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور مکاریوں کا مقابلہ کر نے میں انہی اسلامی تحریکوں کوکامیابی مل سکتی ہے جو اہلِ بیتِ اطہارِ رسول ؐ کے دینِ اسلام میں حقیقی مقام کی معرفت رکھتے ہوں اوراہلِ بیتِ رسول ؐ کی محبت کے نام پر کجرویوں اور انحرافات کو ایجاد کر نے اور انجام دینے سے مکمل طور سے گریزاں ہو ں قطعِ نظر اس سے کہ یہ اسلامی تحریکیں اپنے آپ کوشیعہ عنوان سے یا سنی عنوان سے دنیا کے سامنے متعارف کرا تی ہوں ۔اس نکتے کی تشریح رہبرِ معظم سید آیت ا للہ خامنہ ای کے بیان کی روشنی میں اس طرح بخوبی کی جا سکتی ہے کہ تشیعِ انگلیسی اور تسننِ امریکا ئی دونوں ہی اسلامِِ حقیقی کی پیشرفت میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
یہ امام کی دی ہوئی بصیر ت ہی تھی جس کی بناء پر ایران کی انقلابی قوم نے اپنے آپ کوامام کی رحلت کے بعد حضرت سید آیت اللہ خامنہ ای کی انتہائی شائستہ رہبریت کے سپرد کردیا۔ ایرانی قوم کا امامؒ کے جانشین کا صحیح تحقق امام راحل سے اس قوم کی مضبوط قلبی وابستگی اور غیر منفک دینی ارتباط کا حقیقی آئنہ دار ہے۔اسلام میں رہبریت کی مرکزی اہمیت ہے ۔رسولِ ؐخدا کی رحلت کے بعد اگر امتِ مسلمہ اس حوالے سے مجرمانہ غفلت کا شکار نہ ہوتی تو یہ امت اپنی طویل تاریخ کے بیشتر حصے میں سفاک صفت ملوکیتوں اور جدید سا مراجی قوتوں کی اقتصادی ،معا شرتی ،ثقا فتی اور علمی و فکری محکومیت و غلامی کی ہر گز اسیر نہیں ہوتی ۔ایرانی قوم پر قربان جائیے کہ اس نے امام خمینی ؒ کے جانشین کے انتخاب میں جس کمال ہوشیاری کا ثبوت دیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

امام خمینی ؒ کے بعد سامراجی طاقتوں ،صیہیونیوں اور آلِ سعوداور اس کے ہم مشرب دیگر عرب شاہی خاندانوں نے انقلاب اور مقاومت دشمنی کے جن نت نئے پیچیدہ ترین ہتھکنذوں کا استعمال کیا ان کا مقابلہ آسان نہ تھا۔یہ رہبرِ معظم کی ہی نورانی شخصیت تھی کہ جس نے دشمن کی پیچیدہ تر ین اور گو نہ گوں سازشوں کوکامیابی کے ساتھ شکستِ فاش سے دوچار کر دیا۔ القدس فورس کے نام سے ایک کثیرالجہت فوجی صلاحیتوں کی حامل فوررس کی تشکیل رہبرِ انقلابِ اسلامی کی الٰہی حکمتِ عملی ہی کی مرہونِ منت ہے تاکہ ایران کی سرحدوں سے ماوراء انقلابِ اسلامی کے وسیع تر معنوی، سیاسی ، فوجی اور دیگر اسٹراٹیجک اہداف کے حصول کے لیے نیز انقلابِ اسلامی اور اسلامِ حقیقی کے دشمنوں کی تسلط پسندانہ اقدامات کو بخوبی ناکام بنایا جا سکے ۔ القدس فورس فلسطین اور القدس کی آزادی کو بطور ایک الٰہی فریضہ اپنی ترجیحات میں سرِ فہرست رکھے ہوئے ہے اور اس سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہیں ہے۔ رہبرِ معظم نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کے نیٹ ورک میں ایک اور عظیم الشان اضافہ سائبر ڈیفنس کا کیا جس کاایران کے کمپیوٹر وانٹرنیٹ سسٹم میں دشمن کے نفوذو تصرف کو روکنا اور ناممکن بناناہے۔ رہبرِ معظمکی یہ تمام حکیمانہ تدبیریں تیر بہ ہدف ثابت ہو رہی ہیں۔

القدس فورس کی کامیاب منصوبہ بندی کے سبب ہی عراق، شام اور لبنان میں تکفیری د ہشتگردوں کومسلسل شرمناک ہزیمت سے دوچار ہو نا پڑ رہا ہے اور دنیا جلد ہی انشاء اللہ ان خون آشام درندوں کی مکمل نابودی کا مشاہدہ بھی کریگی ۔رہبرِ معظم کی حکمتِ عملی کے سبب آج یمن آلِ سعود اور اسکے اتحادی دیگر عرب شاہی خاندانوں کے لیے ایک وسیع قبرستان میں تیزی سے تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے اور جہاں انصاراللہ نامی تحریک کہ جو مثلِ حزب اللہِ لبنان ہے نے انقلابیعوامی کمیٹیوں اور اپنے ملک سے وفادار یمنی فوج کے ساتھ مل کر سامراج اوراسکے نوکرسعودی عرب اور دیگر عرب شاہی حکومتوں کی طویل وحشیانہ جارحیتوں کے جواب میں ان کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر موت اور تباہی مسلط کر رہی ہے۔

دشمن کی انقلابِ اسلامی اور مقاو متِ اسلامی بلکہ پور ی تہذیبِ انسانی کے خلاف جو سب سے جدید ترین اور بھیانک سازش سامنے آئی وہ شام و عراق اور دنیا کے دیگر حصوں میں تکفیری و وہابی دہشتگردوں کی صورت میں سامنے آئی اس کے شعلوں سے کوئی بھی علاقہ محفوظ نہ ہوتا اگر ایران کی اسلامی حکومت خطے میں موجود اپنے مزاحمتی اتحادیوں سے مل کر ان کے قلع قمع کے لئے موثر اقدامات نہ اٹھاتی۔ آج رہبرِ معظم کی الٰہی حکمتِ عملی کا دنیاکو مر ہونِ منت ہونا چا ہیے جس کی بدولت اب تکفیری دہشتگرد اپنی نابودی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

رہبرِ معظم کی الٰہی بصیرت کا عنوان کئی ضخیم کتابوں کا متقا ضی ہے ۔ یہاں ہم صرف رہبرِ معظم کے ایک تازہ ترین بیان کو نقل کریں گے جو امام خمینی ؒ کی فکر انقلابی کاحقیقی پر تو ہے:

پانچویں مجلسِ خبر گان کے سر بر اہ اور اراکین نے حال ہی میں رہبرِ معظم سید آیت ا للہ خامنہ ای سے ملا قات کی ۔آ پ نے اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ مجلسِ خبر گان کا راستہ انقلاب کا ر استہ اور اس کے مقاصد انقلاب کے مقاصد ہونے چاہیے ۔رہبرِ معظم نے اسلام کی حاکمیت ، آزدی و خود مختاری ، سماجی انصاف کے قیام ، عوام کی رفاہ و آسائش ، مغرب میں پائی جانے والی تباہ کن اخلاقی ، اقتصادی ،سماجی اور سیاسی برائیوں کا مقابلہ کر نے اور سامراجی محاذ کے تسلط کے مقابلے میں استقامت کو ایرانی عوام کے اسلامی انقلاب کے اہم ترین مقاصد میں قرار دیا۔رہبرِ انقلابِ اسلامی نے تسلط پسندی کو سامراج کی سرشت اور طینت قرار دیتے ہوے فرمایا کہ یہ سامراجی محاذ کی فطرت میں ہے کہ وہ اپنے تسلط کا دائرہ قوموں پر وسیع کر تا رہے لہٰذا جو بھی قوم اور ملک اس کا مقابلہ نہیں کرے گا وہ سامراجی محاذ کے جال میں پھنس جائے گا۔ رہبرِ معظم سید آیت ا للہ خامنہ ا ی نے فرمایا کہ اس میں شک نہیں کہ اسلام ظلم اور سامراج کا قلع قمع کرنے والا دین ہے البتہ وہی اسلام عالمی سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹ سکتا ہے ا ور تسلط پسند محاذ کو نا بود کر سکتا ہے جو ایک حکومتی نظام کی شکل میں رائج اور قائم ہو اور جس کے پاس فوجی، سیاسی ، اقتصادی ،ثقافتی اور صحافتی وسائل و ذرائع ہوں۔رہبرِ انقلابِ اسلامی نے فرمایا کہ نظام کی بقاء و پیشرفت اور انقلاب کے اہداف کی تکمیل کا واحد راستہ ملک کا حقیقی اقتدار اور جہادِ کبیر یعنی دشمن کی پیروی نہ کر نا ہے ۔

خدا وندِ متعال سے دعا ہے کہ وہ جہان کے مستضعفین اور محرومین پر رہبر کا سایہ تا دیر قائم رکھے تاکہ آپ خدا کے لطف کے سائے میں انقلابِ اسلامی کا

پر چم بہ نفسِ نفیس امامِ زمانہ ؑ کے سپرد کریں۔ الٰہی آمین

سید راشد احد