امام خمینی ؒ پربی بی سی کی تہمت اور حقائق

انقلاب اسلامی ایران کے بانی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید روح اللہ موسوی المعروف امام خمینی ؒ کے خلاف بی بی سی فارسی نے دو الزامات عائد کئے اور ایسا ان کی ستائیسویں برسی کے موقع پر کیا گیا۔گوکہ ان کے جانشین حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای نے برسی کے اجتماع سے خطاب میں اس کا مختصر جواب دے دیا تھا اور ایک ایرانی تجزیہ نگار نے فارسی زبان میں اس پر اپنی رائے میں بعض دلائل بھی پیش کردیئے تھے لیکن ایران سے باہر بیٹھا حقائق کا مجھ جیسا متلاشی جسے برطانوی و امریکی حکومتوں، انٹیلی جنس اداروں اور ذرایع ابلاغ کی ایران کے خلاف سازشوں کی طویل تاریخ کا تھوڑا بہت علم ہے ، اسے بھی یہ شوق ہوا کہ آزادانہ اس معاملے کی حقیقت تک پہنچوں ۔میرے بک شیلف میں یوں تو کئی کتابیں موجود تھیں لیکن میں نے شارٹ لسٹ کرکے ان میں سے دو کا انتخاب کیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں ’’مستند‘‘ یا ’’جید‘‘ قسم کے امریکیوں کی تحریر کردہ ہیں۔ایک کتاب دی پرشین پزل : دی کنفلکٹ بٹوین ایران ایند امریکا The Persian Puzzle : The Conflict Between Iran and Americaکینیتھ ایم پولاک کی تصنیف ہے اور یہ امریکی تھنک ٹینک بروکنگس انسٹی ٹیوشن کے سابان سینٹر نے شایع کروائی ہے۔ کین پولاک نے 12سال امریکی سی آئی اے اور نیشنل سیکیورٹی کاؤنسل میں خدمات انجام دیں۔ دوسری کتاب در حقیقت امریکیوں کی سرکاری دستاویز ہے جس کا عنوان غلط طور پردی ایران کونٹرا اسکینڈل رکھا گیا ہے لیکن اسے پڑھ کر غیر جانبدار اس کا نام’’ امریکا، سعودی کونٹرا ‘‘ رکھنے پر خود کو مجبور پائے گا۔یہ اس واقعہ کی ڈی کلاسیفائیڈ تاریخ ہے۔ امریکی نیشنل سیکیورٹی آرکائیو کے سینیئر تجزیہ نگار برائے امریکا و لاطینی امریکی پالیسی پیٹر کورن بلواور نیشنل سیکیورٹی کاؤنسل کے ڈائریکٹر برائے تجزیہ میلکم بائرن(Malcolm Byrne) نے مشترکہ طور پر ایڈٹ کی ہے۔یہ دستاویز کتابی شکل میں1993میں شایع ہوئی تھی۔

ٰؓبی بی سی کے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ایک ملک جسے اردو میں متحدہ بادشاہت پکاریں گے یعنی UKکا سرکاری فنڈنگ سے چلنے والا ایک نشریاتی ادارہ ہے اور نہ صرف یو کے یا عرف عام میں برطانیہ یا انگلینڈ کی فنڈنگ بلکہ یورپی یونین اور بعض دیگر کی فنڈنگ کے ثبوت بھی ماضی میں ہم مغربی ذرایع ابلاغ کے بارے میں ایک مقالے میں تحریر کرچکے ہیں۔متحدہ بادشاہت کو ایک طویل عرصے سے بادشاہ کی بجائے ملکہ عالیہ چلارہی ہیں اور دنیا میں اس ملک کو مادر جمہوریت کہا جاتا ہے جس کا نام ہی متحدہ بادشاہت ہے! کہاں جمہوریت اور کہاں بادشاہت؟ ! تو جس طر ح کا دوغلا پن ، منافقت ان کے نام اور ویسٹ منسٹر ڈیموکریسی کے دعویٰ سے ظاہر ہوتا ہے اسی طرح کا مکر و فریب بی بی سی کی نشریات سے بھی جھلکتا نظرآتا ہے۔پہلے انہوں نے ایران کو بدنام کرنے کے لئے ازدواج سفید کے نام سے ایک بے بنیاد تحریر کو دنیا بھر میں پھیلایا تھا تب بھی ہم نے اس کے جواب میں ان ذرایع ابلاغ کی حقیقت اور وکٹورین ویلیوز کی تفصیلات بیان کی تھیں۔ ایران کی تاریخ میں برطانیہ اور امریکا کا سامراجی کردار اور کھلی مداخلت کی وجہ سے انہیں دشمن قرار دیا جاتا ہے۔صرف امریکا ہی شیطان بزرگ نہیں بلکہ انقلابیوں کے ہر اجتماع میں مرگ بر امریکا کے نعرے کے ساتھ مرگ بر انگلیسی، یعنی مردہ باد برطانیہ کا نعرہ بھی لگتا ہے۔ مکمل نعرہ کچھ یوں ہے: اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، خامنہ ای رھبر، مرگ بر ضد ولایت فقیہ، مرگ بر امریکا، مرگ بر انگلیسی، مرگ بر منافقین و کفار، مرگ بر اسرائیل۔ ایرانی انقلابیوں کی نظر میں امریکا ، برطانیہ، منافقین و کفار اور جعلی ریاست اسرائیل ، یہ سبھی مردہ باد ہیں۔ یہی ایران کی سرکاری پالیسی ہے اور اس پالیسی کی وجہ سے وقتاً فوقتاً انقلاب اور انقلاب کی رہنما شخصیات کے خلاف کچھ نہ کچھ زہر افشانی دشمنوں کی جانب سے ضرور کی جاتی رہی ہے۔

اس تمہید کے بعد اصل مطلب کی طرف آتے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ امام خمینی ؒ نے امریکی صدر کینیڈی اور جمی کارٹر سے رابطہ کیا تھا۔ایران سے جو جواب آیا اس کے مطابق کینیڈی سے کبھی کوئی رابطہ ہی نہیں ہوا تھا، یہ بات بے بنیاد ہے۔جمی کارٹر نے خود امریکی سفارت خانے جو درحقیقت خطے میں امریکا کا جاسوسی کا سب سے بڑا اڈہ تھا، اس پر انقلابی ایرانیوں کے چھاپے کے نتیجے میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے امریکیوں کی آزادی کے لئے امام خمینی ؒ یا ایرانی حکومت سے رابطے کئے تھے۔ کینیتھ پولاک کی کتاب کے باب ششم America Held Hostage میں اس کی تفصیلات ایک طویل پیراگراف میں لکھ دی ہیں اور اس کا پس منظر بھی بیان کیا ہے کہ امریکا نے انٹرنیشنل کمیونٹی سے بھی ایران پر دباؤ ڈلوایا جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کاؤنسل میں4 دسمبر کوقرارداد منظور کی جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ امریکیوں کو فوری طور پر رہا کرے اور اس میں امریکیوں کا موقف بیان کیا گیا جیسا کہ امریکا چاہتا تھا وہ الفاظ استعمال کئے گئے اور ایران کی شکایات کو اس قرارداد میں نظر انداز کردیا گیا۔15دسمبر کو عالمی عدالت انصاف نے ایران پر زوردیا کہ امریکیوں کو آزاد کرے اور امریکی سفارتی پراپرٹی کو فوری طور پر بحال کرے۔لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اب دل تھام کر پڑھیں کہ اس پس منظر کے بعد کینیتھ پولاک نے لکھا کہ But none of this had any impact. Indeed the administration became somewhat deperate to find interlocutors who might be able to reach Khomeini and persuade him to start negotiatons with the United States (let alone cut a deal!). In their desperation they reached out to Christian Bourguet, a French lawyer, and Hector Villalon, an Argentinian businessman, whom the Iranians had recruited to try to have the Shah extradited to Iran but who were genuinely willing to try to help. Once again, it was unclear that these two really could deliver on anything they promised and the affair ended badly. Astonishingly, Villalon forged a letter from Carter to Khomeini that accepted American guilt for numerous injustices done to Iran in the desperate hope that this would convince Khomeini to open negotiations. Of course Iranian government did no such thing and instead release it to the public, requiring Washington to prove that the letter was forged and explain what it had been doing working with such bizarre intermediaries. یہ ساری روداد امریکا کے معاون وزیر خارجہ برائے انٹیلی جنس و ریسرچ (1975-78) اور نیئر ایسٹ(1978-81) ہیرولڈ سانڈرز نے بعد ازاں اپنی کتاب ’’ڈپلومیسی اینڈ پریشر ‘‘ میں بھی تحریر کی ہے۔یہ امریکی معاون وزیر خود اس وقت محکمہ خارجہ کے مشرق وسطیٰ سے متعلق شعبے کا اہم فرد تھا۔ان جملوں کے فورا! بعد کینیتھ پولاک نے ایک اہم حقیقت بیان کی کہ یہ امریکا کے لئے سبق تھا۔ پھر کچھ پیراگراف کے بعد لکھا کہ Ever since November 4, 1979, no American political leader has wanted to open himself or herself upto the charge of coddling the Iranians. It is not a winning strategy in post-hostage crisis of America.

امریکا کے معاون وزیر خارجہ نے یہ تصدیق کردی کہ امریکی حکومت نے خود ایک فرانسیسی قانون دان اور ارجنٹینا کے تاجرسے ایرانی حکومت یا امام خمینی ؒ سے بات چیت کے لئے مذاکرات کار کے طور پر استفادہ کیا ۔بقول ان کے ان دونوں شخصیات کو ایرانی حکومت نے ایک کام سونپا تھا کہ وہ شاہ ایران کو بیرون ملک سے ایران واپس لانے میں معاونت کریں( تاکہ شاہ ایران کو ایران میں اس کے جرائم کی سزا دی جاسکے)۔ارجنٹینا کے تاجر نے جمی کارٹر کی جانب سے ایک خط بنام امام خمینی لکھا جس میں اس نے ایران کے ساتھ کی گئی کئی ناانصافیوں میں امریکی جرم کو قبول کیا ، ایسا اس لئے کیا تاکہ امام خمینی مذاکرات پر آمادہ ہوجائیں مگر ہوا یہ کہ ایرانی حکومت نے مذاکرات تو نہیں کئے بلکہ وہ خط ہی مشتہر کردیا اور واشنگٹن سے کہا کہ وہ ثابت کرے کہ یہ خط لکھا گیا ہے اور وہ ان بے سروپا درمیانی افراد کے ذریعے ایسا کرنے کی وضاحت کرے۔

در اصل امریکی جاسوسی اڈے کا بے نقاب ہونا، پھر اس کے بعد ایرانی حکومت کا سخت رویہ اور امریکیوں کی ہر خفیہ کوشش کو بے نقاب کرنا، لبنان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت، سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کا اغوا ، سمیت ایسے کئی واقعات میں امریکی حکومت کو ایرانی حکومت نے ایسا ذلیل و رسوا کیا کہ دنیا کے سامنے یہ حقیقت سامنے آئی کہ امریکیوں سے حق منوانا ہو تو ان کے خلاف طاقت کاا ستعمال ہی بہترین آپشن ہے۔جب تک انقلابیوں نے امریکیوں کو جیسے کو تیسا والی پالیسی کے مطابق ڈیل کیا ، امریکیوں نے انقلابیوں کے مطالبات مانے اور سفارتکاری کو جہاں بھی موقع دیا گیا امریکا نے وہاں ایران اور اس کے اتحادیوں کو بہت حد تک نقصان سے دوچار کیا۔امام خمینی ؒ نے انقلاب اسلامی ایران کے ذریعے دنیا کو جو سیاسی ، انقلابی و مقاومتی روش عطا کی ، اور جس کے نتیجے میں امریکا اور اس کے اتحادی ذلیل و رسوا اور ناکام ہوئے، بے نقاب ہوئے، یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً وہ ایران، انقلاب یا امام خمینی یا امام خامنہ ای کے خلاف کوئی نہ کوئی جھوٹ منسوب کرکے بھڑاس نکالتے ہیں ورنہ حقیقت یہی ہے کہ کبھی بھی ایران نے امریکی حکومت کو قابل اعتماد قرار نہیں دیا اور ہر مرتبہ امریکا نے ایران سے مکر و فریب کرتے ہوئے دوستی کی خواہش کا اظہار کیا، خود امریکی صدر باراک اوبامہ کے امام خامنہ ای کے نام خطوط اس کا ثبوت ہیں۔ شاید ستائیس سال بعد دنیا کو بی بی سی یا کوئی اور ادارہ یوں بتارہا ہوگا کہ امام خامنہ ای کا امریکی صدر اوبامہ سے خفیہ رابطہ تھا جبکہ اس کی حقیقت آج سب پرآشکار ہے۔

تحریر: عرفان علی